صلح کل

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - (اپنے پرائے) ہر شخص سے روا داری برتنا، (دوست دشمن) کسی سے جھگڑا فساد نہ کرنا، بے تعصبی، سب سے ملاپ و آتشی، خیر خواہی۔ "اپنی بات کہ جانے کے باوجود صلحِ کل کی یہ کیفیت ان کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، غبارِ ماہ، ٤٢ ) ١ - مصالحت پسند، جس کی طبیعت میں آشتی ہو، سب کے ساتھ روا داری برتنے والا، امن پسند شخص۔ زانیوں میں پاک بازی آگئی، جبگحو، صلحِ کل بن گئے۔"      ( ١٩١٥ء، فلسفۂ اجتماع، ٢٠٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب توصیفی ہے۔ عربی سے مشتق اسم 'صلح' کے ساتھ کسرۂ صفت بڑھا کر عربی ہی سے مشتق اسم صفت 'کل' ملنے سے مرکب بنا۔ مذکور ترکیب میں 'صلح' موصوف اور 'کل' صفت ہے۔ اردو میں بطور اسم نیز بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (اپنے پرائے) ہر شخص سے روا داری برتنا، (دوست دشمن) کسی سے جھگڑا فساد نہ کرنا، بے تعصبی، سب سے ملاپ و آتشی، خیر خواہی۔ "اپنی بات کہ جانے کے باوجود صلحِ کل کی یہ کیفیت ان کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، غبارِ ماہ، ٤٢ ) ١ - مصالحت پسند، جس کی طبیعت میں آشتی ہو، سب کے ساتھ روا داری برتنے والا، امن پسند شخص۔ زانیوں میں پاک بازی آگئی، جبگحو، صلحِ کل بن گئے۔"      ( ١٩١٥ء، فلسفۂ اجتماع، ٢٠٧ )

جنس: مؤنث